لکھنؤ، 27؍جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )پچھڑا سماج مہا سبھا کے قومی صدر احسان الحق ملک نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ اپنی آئینی حقوق کو لینے کیلئے جب مذہبی ٹھیکیداروں و دلال نیتاؤں کے چکر میں رہیں گے ان کی بد حالی بنی ہی رہے گی ساتھ ہی سیاست میں خوشامد پرستوں کی وجہ سے کبھی بھی عام مسلمان سیاسی طور پر مضبوط نہیں ہو گا ۔ایسے لوگوں کو جب تک مسلمان الگ نہیں ہو گا اس کی بدحالی ،مفلسی ،بنی رہے گی۔ملک نے یہ بھی بتایا کہ ادھر کچھ مذہب کے ٹھیکیدار و دلال نیتاؤں نے مسلم ریزرویشن کا شگوفہ چھوڑ رکھا ہے جب کہ آئین کے مطابق مسلمانوں کا ریزرویشن نہیں ہو سکتا ہے۔اگر یہ ایمانداری سے مسلمانوں کو ریزرویشن دلانا چاہتے ہیں تو27فیصد ریزویشن میں سے 1.4 الگ ریزرویشن ملک جائے توپچھڑے مسلمانوں کاکافی حد تک ہر سطح پر بھلا ہو سکتا ہے لیکن یہ وہ لوگ ہیں جو کہ ملک کے98فیصد مسلمانوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنا چاہتے ہیں جو ناقابل برداشت ہے۔ملک نے یہ بھی کہا کہ 68سالوں میں ہزاروں فسادات ہوئے ہیں اور ان فسادات میں سب سے زیادہ جان مال کانقصان مسلمانوں کا ہی ہوا ہے اور تمام ایسے لوگوں کوجھوٹے مقدمہ میں پھنسایا گیا جو بے قصور تھے اگر یہ مذہب کے ٹھیکیداراور دلال نیتا متحد ہوکرمسلمانوں کو انصاف دلانے کیلئے پورے ملک میں ایک عوامی تحریک کھڑی کی ہوتی توآج پورے ملک کے مسلمانوں کو انصاف ہی نہیں مل گیا ہوتا بلکہ ان کی بد حالی بھی دورہوجاتی ۔ملک نے یہ بھی کہاکہ ان دلال نیتاؤں ومذہب کے ٹھیکداروں کی غلامی و خوشامد پرستی کو ختم کرکے خود مسلمان اپنے مسائل کو حل کرنے کیلئے جدو جہدکریں ورنہ یہ پھٹے حال زندگی اور ناانصافی بنی رہے گی اس سے نجات پانے کیلئے ایک ہی طریقہ ہے کہ متحد ہو کر تاریخی جدوجہدکریں ۔